بھٹکل :8؍نومبر (ایس اؤ نیوز) آج پیر 8 نومبر سے تعلقہ بھر میں ریاستی حکومت کے حکمنامے کےتحت ایل کےجی ، یوکے جی اور آنگن واڑی مراکز کھل چکے ہیں اور بچوں اور اسکول کے اسٹاف کی بھاگ دوڑ میں اضافےکو دیکھتے ہوئے سرکاری بس سروس بھی پہلے کی طرح بحال کی گئی ہے۔ لیکن ڈیز ل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ اور معاشی دباؤ کو دددیکھتے ہوئے اب یہ سوال کھڑا ہوگیا ہے کہ کیا بس کے کرایہ میں اضافہ کیا جائے گا ؟
بھٹکل کا سرکاری ٹرانسپورٹ نظام گذشتہ دو برسوں کی مدت میں ریاست کے دوسرے شعبہ جات کی طرح نازک حالت میں ہے۔ کورونا کےپھیلاؤ میں کمی ہونےکے باوجود ٹرانسپورٹ محکمہ کی آمدنی اپنے معمول پر ابھی تک نہیں لوٹ پائی ہے۔ پچھلے دو تین مہینوں سے بسوں کی نقل و حمل شروع کی گئی ہے لیکن 2019کی حالت کو ابھی تک نہیں پہنچی ہے۔ خاص کر دیہی علاقوں میں بسوں کی آمد ورفت بہت بڑے خسارے کا سبب بنا ہواہے۔ غالباًکورونا کی وجہ سے لوگ ابھی تک دور دراز مقامات کے سفر سے کترا رہے ہیں۔ شہر سے باہر روزگار میں مصروف ملازمین ابھی تک ورک فروم ہوم ہی چل رہاہے۔ حالانکہ حال ہی میں گنیش تہوار اور دیوالی جیسے بڑے تہوار منائے گئے لیکن ان تہواروں سے بھی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو زیادہ آمدنی نہیں ہوئی ہے۔ دوسری طرف ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے کارپوریشن کو چھٹی کا دودھ یاد دلادیا ہے۔ اب کرایے میں اضافہ کےلئے کاپوریشن نے حکومت کی طرف رخ کیا ہے ، مگر حالات سے کاپوریشن کے افسران مایوس نہیں ہیں ، بھٹکل بس ڈپو مینجر دیواکر پر اعتماد ہیں کہ شادیوں کا سیزن شروع ہوتے ہی معمول کے مطابق آمدنی ہوگی۔
60بسوں کی آمد و رفت :بھٹکل بس ڈیومیں کل 71بسیں ہیں جس میں سے 60بسوں کے اوقات طئے کئے گئےہیں۔ بھٹکل سے کمٹہ کےلئے یومیہ 10بسیں چلتی ہیں تو 8بسیں دیہی علاقوں میں دوڑا کرتی ہیں۔ بقیہ ایکسپریس بسیں دور دراز مقامات کے لئے چلتی ہیں۔ لیکن دیہی و مضافاتی علاقوں میں جو بسیں چلتی ہیں اس کا نظام بہت ہی خستہ ہونےکا الزام لگائے جانےکی وجہ سے مزید 3بسیں دیہی علاقوں میں دوڑانے کا فیصلہ لیاگیا ہے۔
ڈرائیور اور کنڈکٹروں کی قلت :عوامی مطالبات کے مطابق بھٹکل میں بسوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور جو بھی دستیاب ہیں ان کو بہتر نظام کے تحت چلایاجاسکتاہے۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ بسوں کا انتظام کرنے کےلئے ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کی قلت ہے۔ پچھلے ستمبر اور اکتوبر کےمہینوں میں ڈرائیور اور کنڈکٹروں کو 50فی صد تنخواہیں دی گئی ہیں، تنخواہوں کا بقیہ ادا کیاجانا باقی ہے۔ حالیہ دنوں میں ڈرائیور اور کنڈکٹر اور ٹائم پر ڈیوٹی کےلئے تیار نہ ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔